نو جولائی تک شدید بارشوں سے سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں 9 جولائی تک شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ان بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سیلابی صورت حال کا خدشہ این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ ان بارشوں سے اچانک سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے، خصوصاً صوبہ سندھ اور پنجاب میں۔ پچھلے ہفتے بھی ان علاقوں میں شدید بارشوں کی وجہ سے ہنگامی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ اربن فلڈنگ اور نالوں کی صورت حال ان شدید بارشوں کی وجہ سے اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔ شمالی پنجاب (خصوصاً سیالکوٹ)، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے نالوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے جس سے مزید مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ دریاؤں میں پانی کی سطح کا اضافہ این ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ ان بارشوں کے نتیجے میں مشرقی دریاؤں میں پانی کے اخراج میں اضافہ متوقع ہے۔ دریائے ستلج میں تقریباً 50 ہزار کیوسک پانی کے ساتھ نچلے درجے کا سیلاب آنے کی توقع ہے جبکہ دریائے کابل میں تقریباً 95 ہزار ...
عالمی AI تعاون کی ضرورت: وزیر اعظم لی کیانگ بیجنگ: چینی وزیر اعظم لی چیانگ نے جمعرات کو کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی میں ممالک کے درمیان گہرے مباحثے اور اتفاق رائے کی اشد ضرورت ہے، ساتھ ہی مواقع سے فائدہ اٹھانے اور چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے تعاون کی ضرورت ہے۔ لی نے یہ بات شنگھائی میں منعقدہ 2024 ورلڈ AI کانفرنس اور عالمی AI حکمرانی کے اعلی سطحی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں، نئی AI ٹیکنالوجیز مسلسل ترقی کر رہی ہیں، نئے کاروباری ماڈلز ابھر رہے ہیں، اور نئی ایپلیکیشنز تیزی سے پھیل رہی ہیں، جو تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلی کی ایک نئی لہر کی اہم محرک بن چکی ہیں، جیسا کہ ژنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔ اسی وقت، یہ قانون، سلامتی، ملازمت اور اخلاقی اصولوں جیسے شعبوں میں ایک سلسلہ وار نئے چیلنجوں کا سامنا بھی کرتی ہے۔ لی نے کہا کہ چین نے ہمیشہ ذہین انقلاب کو فعال طور پر اپنایا ہے، AI کی جدت اور ترقی کو زور و شور سے فروغ دیا ہے، AI کی سلامتی اور حکمرانی کو بڑی اہمیت دی ہے، اور عملی اقدامات کا ایک سلسلہ نافذ کیا ہے۔ ہر سال منعقد ہونے وا...
بابَر، رضوان اور شاہین کی GT20 کینیڈا لیگ میں شرکت مشکوک پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے حال ہی میں جی ٹی 20 کینیڈا لیگ میں شرکت کے لیے بابَر اعظم، محمد رضوان، اور شاہین آفریدی کے این او سی جاری نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ان کھلاڑیوں کی شرکت نہ صرف لیگ کے لیے بلکہ پاکستان کرکٹ کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ پی سی بی کا این او سی جاری نہ کرنا این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ) کھلاڑیوں کی بین الاقوامی لیگوں میں شرکت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ پی سی بی نے اس بار ان کھلاڑیوں کے این او سی جاری نہیں کیے، جس کی وجہ سے ان کی شرکت مشکوک ہوگئی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل (ICC) سے مشاورت پی سی بی نے اس معاملے پر آئی سی سی سے مشاورت کی ہے۔ آئی سی سی کی رائے کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ فیصلہ کیا جا سکے کہ این او سی جاری کیے جائیں یا نہیں۔ کھلاڑیوں کی مختلف لیگوں میں شرکت کی درخواستیں کئی پاکستانی کھلاڑیوں نے مختلف بین الاقوامی لیگوں میں شرکت کی درخواستیں دی ہیں۔ پی سی بی نے ان درخواستوں پر غور کرتے ہوئے چند کھلاڑیوں کو این او سی جاری کیے ہیں۔ گزشتہ دنوں جاری ہونے والے این...
No comments: